نئی دہلی،02/اگست (آئی این ایس انڈیا) راجیہ سبھا میں دہشت گردی کے خلاف یو اے پی اے ترمیم بل پاس ہو گیا ہے۔اس کو اعلیٰ کمیٹی میں بھیجنے کی تجویز ووٹنگ کے دوران کم ہوگئی۔اس بل پر بحث کے دوران کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا کہ انہیں بی جے پی پر شک ہے۔کانگریس نے کبھی دہشت گردی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہے اسی لیے یہ بل لے کر آئی تھی۔لیکن آپ نے دو بار دہشت گردی سے معاہدہ کر لیا ہے پہلے روبیا سعید کو چھڑوانے میں پھر مسعود اظہر کو چھوڑا گیا۔اس سے پہلے کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ پی چدمبرم نے کہا اگر کوئی اس بل میں ترمیم دیکھتا تو اسے این آئی اے کو مزیدطاقت دینے کی بات کہی جاتی ہے لیکن اب اس شکل میں پاس کر رہے ہیں کہ اب کسی کو بھی دہشت گردی قرار دیا جا سکے گا اس لیے ہم اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں۔پی چدمبرم نے کہاکہ '2008 میں جب میں وزیر داخلہ تھا تو میں نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے تین پاؤں ہونا چاہیے ۔پہلا این آئی اے، دوسرااین اے ٹی جی آر آئی ڈی اور تیسرا ین ٹی سی۔لیکن اب ہمارے پاس صرف ایک پیر ہے۔ این اے ٹی جی آر آئی ڈی اور این سی ٹی سی کہاں ہیں۔سی پی ایم کے الامارم کریم نے کہا کہ سرکاری دہشت گردی مسلط کی جارہی ہے اور اختلاف کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔اس سے بڑے پیمانے پر ظلم و ستم اور ناانصافی ہوگی انہوں نے کہا کہ اس ترمیم سے قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کو کسی بھی ریاستی حکومت کی اجازت لئے بغیر یا اسے مطلع کئے بغیر اس ریاست میں جانے اور کسی شخص کے خلاف کارروائی کرنے کا کھلا لائسنس مل جائے گا۔آر جے ڈی کے منوج کمار جھا نے کہا کہ کسی کو بھی دہشت گرد کہہ دینا بہت آسان ہوتا ہے لیکن دیکھنا چاہئے کہ اس کے بعد اس شخص کی زندگی اور ان کے خاندان کس طرح کے حالات کا سامنا کرتا ہے۔ترمیم بل کی دفعات کو سخت بتاتے ہوئے جھا نے کہا کہ یہ بل اس نظریے کا اشارہ کرتا ہے کہ اگر میں حکومت پر تنقید کرتا ہوں تو میں ملک مخالف کہلاؤں گا۔انہوں نے بتایا کہ 1947 میں نامور سماجوادی لیڈر رام منوہر لوہیا کو اس وقت وزیر داخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے حراست میں لے لیا تھا اور پنڈت جواہر لال نہرو کے اصرار کے باوجود انہیں چھوڑنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ قانون اپنا کام کرے گا۔جھا نے کہا کہ اگر دہشت گرد ہونے کے الزام میں پکڑا گیا شخص 15-16 سال بعد بے قصور ثابت ہوتا ہے اور رہا ہوتا ہے تب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس کے 15-16 سال اسے کیسے لوٹائے جائیں۔اس کے بعد بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ چدمبرم جی کا اعتراض ہے کہ کسی خاص شخص کو دہشت گرد قرار کیوں دیا جائے جب اس اس کی تنظیم کو بین کیا جا چکا ہو۔دراصل ہم جب کسی تنظیم کو بین کرتے ہیں تو وہ کسی دوسرے نام سے تنظیم بنا کر آ جاتا ہے۔ہم کب تک تنظیموں کو بین کرتے رہیں گے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ دگ وجے سنگھ جی ناراض لگ رہے ہیں۔حال ہی میں وہ الیکشن ہارے ہیں۔این آئی اے کے تین کیسوں میں کسی کو بھی سزا نہیں ہوئی ہے۔کیونکہ یہ تمام الزامات سیاسی انتقام کے چلتے لگائے گئے تھے اور دہشت گردی کو کسی خاص مذہب سے جوڑنے کی کوشش تھی۔